• Post by: Zeeshan Nasar
  • 58

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 

نستعلیق فونٹس کی اقسام اور مسائل  

اسلامک کیلی گرافی انگلش فونٹس کی طرح نارمل، بولڈ،تھن یا اٹیلک جیسے تصورات نہیں رکھتی بلکہ اس کے اپنے دو الگ تصور ہیں۔
۱۔قلمِ جلی ۲۔قلمِ خفی
یہ دونوں تصورات فاصلے،حجم اور نظر کی گرفت کے اصول پر مبنی ہیں۔ اگر کوئی فیگر صاف اور واضح ہو تو اسی پر ناقدانہ نظر اور فنی نزاکت سے بحث کی جا سکتی ہے۔اس کے برخلاف اگر ایک فیگر نظر کی گرفت سے بھاگتی ہوئی لگے تو اس کی بس صحیح پہچان اور اشتباہ کا دور ہونا ہی کافی ہے

قلمِ جلی موٹے قلم کی لکھائی کو کہتے ہیں،مثلاً اخبار کی موٹی سرخیاں اور مثلاً پینا فلیکس کی لکھائی۔اس میں لفظوں کو ناپ تول کر اور بنا سنوار کر لکھا جاتا ہے۔اس میں پیوندوں کی جزئیات اور نوک پلک درست ہوتی ہےاور دراصل ایک سٹنڈرڈ خط قلمِ جلی ہی کو کہا جاتا ہے۔ اسی قلم سے لکھی گئی تحریر پر صاحبانِ فن اپنے فن پارے تخلیق کرتے ہیں اور صاحبانِ ذوق اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتے ہیں۔
قلمِ خفی باریک لکھائی کو کہتے ہیں۔جیسے کسی کتاب کی تحریر یا اس سے بھی کم اخبار کی تحریر۔ اس میں فنی باریکیوں سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے اور قلم کی روانی کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔اس میں پیوندوں کو واضح رکھا جاتا ہے تاکہ پڑھنے میں کوئی اشتباہ نہ ہو۔بین السطور کو بہتر طور پر قائم رکھنے کے لیے لفظوں کو قدرے ترچھا رکھا جاتا ہے اور اونچے لفظوں کسی قدرے کمپریس کر کے لکھا جاتا ہے۔پیوندوں کی نسبت دائرے چونکہ ایک واضح فاصلہ رکھتے ہیں اور ان میں اشتباہ کا خدشہ نہیں ہوتا،نیز لائن کو بیلنس رکھنا بھی مقصود ہوتا ہے،اس لیے ضرورت کے مطابق دائرے سٹنڈرڈ سے چھوٹے رکھے جاتے ہیں۔
اس صورت حال سے ظاہر ہے کہ ہم قلمِ جلی کو ریڈیوس کر کے قلم خفی کا رزلٹ حاصل نہیںکر سکتے ہیں۔اور نہ ہم قلمِ خفی کو انلارج کر کے قلمِ جلی کا رزلٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ کمپیوٹر میں چونکہ زومنگ ایک عام ٹول ہے اور کسی باریک لکھائی کو بڑا کر کے دیکھنا کچھ مشکل نہیں اسی لیے عام طور پر اس مسئلے کو لائٹلی لیا جاتا ہے۔ تاہم ڈیسک ٹاپ پبلشنگ میں یہ حقیقی مسئلہ ہے۔
نستعلیق کے مسائل:
۱۔ نستعلیق ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل سکرپ ہے۔اس میں ایک ہی پیوند کے نقطے مختلف الفاظ میں بیسیوں دفعہ اپنی جگہ بدلتے ہیں۔
مثلاً لفظ ( مختلف) میں’’ت‘‘ کے نقطے ۔آگے لکھے گئے الفاظ میں یہی پیوند ہے مگر نقطے دیکھیے’’ امتداد، بتا، جتا متین،ستا بنتا‘‘وغیرہ۔
۲۔ دوسرا مسئلہ لفظوں کے درمیانی فاصلہ کو کنٹرول کرنا ہے تاکہ کوئی لفظ کا کوئی حصہ اگلے یا پچھلے حرف کے ساتھ مل کر اشتباہ پیدا نہ کرے۔ مثلاً لفظ ’’جوان‘‘ اور’’جو اُن‘‘ میں فرق ہونا چاہیے۔ اسی طرح ’’جواب‘‘ اور ’’جو اَب‘‘ ، ’’ کرتاکہ‘‘ اور’’  کر تاکہ‘‘ وغیرہ۔ 
اسـ کے (علاوہ نستعلیقی) لفظ فالتو خلا کو پُر کرنے کے لیے اگلے لفظ کے نیچے یا پچھلے لفظ کے اوپر چڑھ جاتے ہیں۔ مثال اسی لائن میں ہے۔
۳۔ درست اعراب ایک حقیقی ضرورت ہے، جس کے لیے کسی مثال کی ضرورت نہیں۔
۴۔ متذکرہ مشکلات کی وجہ سے سب سے پہلے لگیچر بیسڈ فونٹ بنایا گیا یعنی نوری نستعلیق۔ اس کے لیے لغات اردو کے تمام ترسیمے لکھ کر انہیں کوڈ کیا گیا۔ یہ سیمبل ٹائپ فونٹ ہے اور صرف ان پیج میں ٹائپ ہو سکتا ہے۔ بعد میں جدید ضروریات کے تحت کسی نے یہ تمام ترسیمے اٹھا کر’’جمیل نوری نستعلیق ‘‘ کے نام سے یونی کوڈ فونٹ میں کوڈ کر دیے۔ اگرچہ یہ ایک غیرقانونی کام تھا مگر اس سب کے باوجود لگیچر سازی مسئلے کا پورا حل نہیں ہے۔ ایک کریکٹر بیسڈ فونٹ ہی اُردو کے مسئلے کاصحیح حل ہے۔ کیونکہ رانگ الفاظ نیز دوسری زبانوں کے الفاظ اردو میں درست طور پر لکھنے کے لیےترسیمہ موجود نہیں ہوتا۔نوری نستعلیق والوں نے بھی اس ضرورت کو سمجھا تو انہیں ’’نوری کریکٹر‘‘ کے نام سے ایک فانٹ نوری نستعلیق کے ساتھ جوڑنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ نئے الفاظ لکھتے ہوئے، یا اعراب لگانے سے نوری نستعلیق،نوری کریکٹر سے بدل جاتا ہے مثلاً نستعلیق نَستعلیق صرف زبر لگانے سے لفظ بدل کر بد خط ہو گیا۔
اب ان پیج سے باہر دیگر ایپلی کیشنز کو جمیل نوری نستعلیق ہی فالو کرتا ہے۔ مگر اس کے مسائل درج ذیل ہیں :
1. یہ ایک پائیریٹڈ فونٹ ہے۔
2. جمیل نوری نستعلیق قلمِ خفی ہے ،چنانچہ لفظ جتنے بڑے ہوتے جائیں گے اس کا لک خراب ہوتا جائے گا۔
3. یہ سب سے ہیوی ویٹ فونٹ ہے۔
4۔ یہ خط دہلوی طرزِ نستعلیق کا حامل ہے ۔ جب کہ پاکستان کی پہچان لاہوری نستعلیق ہے۔
اس میں اعراب کی سپورٹ نہیں ہے۔
نفیس نستعلیق
پاکستان میں سب سے اچھی کوشش ’’نفیس نستعلیق‘‘ ہے۔ یہ لگیچر کی بجائے کریکٹر بیسڈ یونی کوڈ فونٹ ہے۔ اس کے مسائل درج ذیل ہیں :

1۔ یہ قلمِ جلی ہے جس کی ہم اوپر تعریف لکھ آئے ہیں۔
2. اس میں آخری یا اکیلےحرف پر اعراب ہیں۔ پہلے اور درمیانی حرفوں پر نہیں ہیں۔
3. اس میں کرننگ کا فیچر شامل نہیں ہے۔
4. اس میں کشیدہ اور دوسرے آلٹر نیٹ کی سہولت نہیں ہے۔
5. یہ فانٹ مشہور اور مستعمل پروگرام ’’ان ڈیزائن‘‘ کومکمل طور پر سپورٹ نہیں کرتا۔
6. یہ فونٹ پاکستان کے نامور خطاط جناب سید انور حسین نفیس شاہ صاحب کے نام پر بنایا گیا ہے تاہم الفاظ اُن کے کسی شاگرد نے لکھے ہیں جو کہ شاہ صاحب کے سٹنڈرڈ سے کافی دور ہیں۔
7. اس فانٹ کی اونچائی زیادہ ہے۔
8. اس کی رینڈرنگ سپیڈ بہت کم ہے۔ پندرہ لائن کے پیراگراف میں ٹائپسٹ کوئی ایک سطر آگے ہوتا ہے اور فانٹ پریویوپیچھے۔
یہ صورتِ حال تقاضا کرتی ہے کہ اس قومی ضرورت کو کما حقہ پورا کرنے کے لیےمز ید اور مسلسل کوشش کی جائے اور جو خرابیاں اور کوتاہیاں ہیں ان کی اصلاح کی جائے۔اور وقت کی اس ضرورت کو قومی جذبے سے پورا کیا جائے۔
اردوفونٹ سازی ہمارے ہاں اب تک ایک چیلنجر صنعت ہے۔کسی یونیورسٹی میں اس کی تعلیم نہیں دی جاتی۔کچھ لوگوں نے انفرادی طور پریا ایک ادارے نےفارنر کے تعاون سے کچھ کام کیالیکن تھک کر بیٹھ رہے۔اس صورت حال کی وجوہات میں ایک اہم وجہ یہ بھی رہی کہ خطاط،ڈیزائنر اور کوڈ پروگرامر اپنی اپنی ضروریات اور مشکلات کو پورے طور پر شیئر نہیں سکے۔
ویب نستعلیق
سکرین پریویو کے لیے یہ ایک جدید ضرورت ہے۔ اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ مائیکروسافٹ اور گوگل نے اپنے طور پر ویب نستعلیق متعارف کرا دیے ہیں۔ باوجود ا س کے کہ یہ کام بڑے اداروں نے کیا ہے لیکن یہ کام نستعلیق نما سے زیادہ نہیں ہے۔ خطی حسن بالکل نہیں۔ 

 

Advanced Typography & Fonts Development. A Type foundry for custom multilingual, Traditional and Modern type designs, fonts and calligraphy. Expert in Arabic, Persian, Urdu, RTL supported Arabic scripts.

Contact Us

  •   Address: Lahore,Pakistan
  •   Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
  •   Phone 1: +92-305-6038860   Phone 2: +92-303-4830826
Top
We use cookies to improve our website. By continuing to use this website, you are giving consent to cookies being used. More details…